دیر آئے درست آئے : سیالکوٹ ضمنی الیکشن جیتنے کے لیے تحریک انصاف کی قیادت نے کیا بندوبست کر لیا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پی ٹی آئی کئی ضمنی انتخابات ہار چکی ہے۔ ڈسکہ ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی شکست پر فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جو علی اسجد ملہی اور فردوس عاشق اعوان اور اعجاز چوہدری پر مشتمل کمیٹی نے وزیراعظم عمران خان کو پیش کی تھی،

اس میں دوسری کچھ وجوہات کے ساتھ ایک اہم ترین وجہ پارٹی کی اندرونی کشمکش بھی تھی۔ سیالکوٹ کی پی ٹی آئی کو بھی اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ ہماری شکست کا بنیادی سبب ہمارے اندر کی تقسیم ہے سو اس مرتبہ سیالکوٹ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے تمام دھڑے آپس میں ایک ہو گئے ہیں جس سے صاف نظر آرہا ہے کہ یہ الیکشن پی ٹی آئی ایک بڑے مارجن سے جیت جائے گی۔ اس حلقے میں ویسے بھی پی ٹی آئی کا بہت زیادہ ووٹ ہے۔ 2018کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار سعید احمد بھلی نے 42000ووٹ لئے تھے۔ پی ٹی آئی کا ایک اور لیڈر طاہر ہندلی جسے اس نشست پر پی ٹی آئی کا ٹکٹ نہ مل سکا تھا وہ آزاد امیدوار کے طور پر کھڑا ہو گیا۔ اس نے 13000ووٹ لئے تھے۔ 6000ہزار ووٹ تحریک لبیک نے لئے تھے۔ ان تینوں کے ووٹ ملائے جائیں تو 58000ہزار بنتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں نون لیگ کے امیدوار خوش اختر سبحانی نے 57000 ووٹ حاصل کئے تھے۔جیتنے کی دوسری وجہ اس مرتبہ پی ٹی آئی کا امیدوار ہے۔ یہ نوجوان ایک ایسے خاندان کا چشم و چراغ ہے جس کی اس حلقے میں بہت زیادہ عزت بھی ہے اور ان کا ذاتی ووٹ بھی بہت زیادہ ہے۔ 8سے 10ہزار تو ان کے اپنے خاندان کے ووٹ ہیں۔ یعنی پی ٹی آئی کا اور بریار خاندان کا ووٹ مل جانے کے بعد فتح یقینی ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ وہ تمام مذہبی جماعتیں جن کا اس حلقے میں خاصا اثر و رسوخ ہے،

وہ بھی پی ٹی آئی کے امیدوار کا ساتھ دے رہی ہیں۔ جماعت اہلِ حدیث، جماعت الدعوۃ، جماعتِ اسلامی اور پاکستان عوامی تحریک نے تو باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ ہمارے تمام ووٹر احسن سلیم بریار کو ووٹ دیں گے۔ ایک اور وجہ بھی احسن سلیم کے حق میں جا رہی ہے کہ اس حلقے کی حالت بہت بری تھی۔ یہ ایریا اگرچہ شہر کے ساتھ ساتھ ہے مگر شہر والی سہولیات اس میں بالکل نہیں ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ شہر کی سہولیتیں ملیں۔ یہاں بہت سی فیکٹریاں ہیں، ان کے مالکان کے بھی کچھ مطالبے تھے، برنس کمیونٹی کے بھی کچھ مطالبے تھے مگر قیصر اقبال بریار سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے صدر ہیں، برنس کمیونٹی سے ان کے بہت گہرے مراسم ہیں اور تمام شہر میں اپنے رفاہی کاموں کی بدولت بہت زیادہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ بےشک نون لیگ کا امیدوار بہت امیر شخص ہے مگر بریار فیملی بھی اس میدان میں کسی طرح ان سے کم نہیں۔ اس سلسلے اس مرتبہ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ نون لیگ کا امیدوار پیسہ لگا کر الیکشن جیت جائے گا۔ اس حلقے میں پی ٹی آئی کے امیدوار نے پیسے بالکل نہیں لگائے کیونکہ اس کے پاس پیسے تھے ہی نہیں۔ احسن سلیم بریار ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے، اس نے اپنی الیکشن کمپین بڑی آرگنائز طریقے سے کی ہے۔ پھر اس نے اپنی پوری برادری کو اس کمپین میں لگا دیا ہے۔ اس وقت بریار صرف ووٹ مانگتا پھر رہا ہے میں سیالکوٹ گیا۔ اس حلقے میں کئی لوگوں سے ملا۔

علاقے کا سروے کیا مجھے محسوس ہوا ہے کہ احسن سلیم اچھی لیڈ کے ساتھ جیت رہا ہے۔اس وقت اس علاقہ کی طاقتور ترین شخصیت فردوس عاشق اعوان ہیں۔ یہ حلقہ ایم پی اے کا ہے۔ اس حلقے سے پی ٹی آئی کی ایم این اے کی امیدوار فردوس عاشق اعوان تھیں اور مستقبل میں بھی یقیناً وہی ہوں گی۔ انہوں نے 2018کے انتخابات میں 92000ہزار ووٹ لئے تھے مگر الیکشن ہار گئی تھیں۔ اس وقت ان کے لئے بہت ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کا امیدوار اس حلقہ میں کامیاب ہو، سو ان کے تمام لوگ بھرپور انداز میں احسن سلیم بریار کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ بریار خاندان کے چوہدری برادران کے ساتھ بھی ذاتی مراسم ہیں۔ اطلاعات یہی ہیں کہ چوہدری برادران کے قریبی لوگ بھی احسن سلیم بریار کے لئے ووٹ مانگتے پھرتے ہیں۔نون لیگ کے امیدوار طارق سبحانی وریو خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ 2013کے انتخاب میں اسی نشست پر ایم پی اے بنے تھے مگر لوگ ان سے خوش نہیں تھے۔ 2018میں ان کی بجائے ان کے بھائی نے انتخاب میں حصہ لیا۔ خاص طور اس حلقے سے گزرنے والے پسرور روڈ کی حالت ایک طویل عرصہ سے بہت بری ہے۔ طارق سبحانی نے 2013میں بھی اپنے حلقے کے لوگوں سے اس روڈ کو بنانے کا وعدہ کیا تھا مگر پورا نہیں کر سکے تھے۔ دوسری طرف موجودہ حکومت اس روڈ کی تعمیر کا کام شروع کرا رہی ہے۔ انہوں نے اور بھی کئی وعدے کئے تھے جو پورے نہیں ہوئے تھے۔ طارق سبحانی کے بھائی ارمغان سبحانی بھی نون لیگ کے ایم این اے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں 49ہزار روپے کا جرمانہ کیا جس کی وجہ سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب دوبارہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے ان کے ڈی سیٹ ہونے امکانات بہت واضح ہو چکے ہیں۔ اس لئے انہوں نے انتخابی مہم میں حصہ لینا بند کردیا ہے۔ مریم نواز نے بھی اس حلقے کی کمپین میں جانا پسند نہیں کیا۔ انتخابی مہم کی کمان حمزہ شہباز کے پاس ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں جو کمیٹیاں تشکیل دی ہیں ان میں منشاء ﷲ بٹ، میاں عبد الروف، توفیق بٹ، پیر اشرف رسول اور رانا تنویر حسین شامل ہیں۔بہرحال مجموعی طور پر لگ رہا ہے کہ سیالکوٹ سے پہلے پی ٹی آئی کے دو ایم پی اے ہونے والے ہیں۔ یعنی یہی لگ رہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی درست امیدوار کو ٹکٹ دے اور آپس کی لڑائیاں ختم کر دے تو اب بھی اسے جیتنےسے کوئی نہیں روک سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.