وہ حلقہ جہاں سے (ن) لیگ تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کرنے پر مجبور ہو گئی ، مگر کیوں اور کیسے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک سیاسی تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آزادجموں کشمیر کے انتخابات نہ صرف آزاد کشمیر میں منعقد ہوتے ہیں بلکہ پاکستان بھر میں مہاجرین جو نقل مکانی کے بعدمقبوضہ کشمیر سے \ پا کستان کے تمام صوبوں میں آ باد ہوئے وہ بھی آزاد کشمیر اسمبلی

میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔مہاجرین کی 12 نشستوں میں سے سب سے زیادہ 9 نشستیں صوبہ پنجاب میں ،1کے پی کے مانسہرہ کے قریب، 2 نشستیں صوبہ سندھ میں ہیں۔مہاجر حلقوں کی حلقہ بندیاں بھی بڑی ہیں۔ حلقہ بندیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو جموں کے حلقے بڑے جبکہ ویلی کے حلقے چھوٹے ہیں۔ مہاجر حلقوں میں سیاسی صورتحال کی بات کریں تو پنجاب کے حلقوں میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ،سندھ کی دو نشستوں پر تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کے درمیا ن مقابلہ متوقع جبکہ کے پی کے کی ایک نشست تحریک انصاف جیت سکتی ہے۔مہاجر حلقوں میں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی نے 12تمام نشستوں پر امیدواروں کو ٹکٹ جاری کئے جبکہ مسلم لیگ نے نے11حلقوں میں پارٹی ٹکٹ تقسیم کئے ۔ خیبر پختونخوا سے بھی کوئی امیدوار انتخابی میدان میں نہیں اتارا ۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن یہاں سے تحریک انصاف کے امیدوار ماجد خان کے کزن ناصر خان کو سپورٹ کر رہی ہے۔12 مہاجر حلقوں میں جو سیاسی جماعت پنجاب کی 9 نشستوں میں سے سب سے زیادہ نشستیں لینے میں کامیاب رہے گی وہ جماعت آزاد کشمیر کی اسمبلی میں حکمران کی لسٹ میں شامل ہو سکتی ہے۔ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں 23نشستیں حاصل کرنے والی سیاسی جماعت کی حکومت بنتی ہے لہذا پنجاب کے 9مہاجر حلقوں میں جو جماعت زیادہ نشستیں لے گی وہ حکومت بننے میں اہم کردار ادا کرے گی۔(یہ تبصرہ چند روز قبل موقر قومی اخبار میں شائع ہوا )

Leave a Reply

Your email address will not be published.