شریف خاندان کی بدقسمتی کی انتہا :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اب یہ حال ہے کہ لوگ شریف فیملی کو اسپتالوں میں بھی نہیں چھوڑتے‘ بیگم کلثوم نواز آخری سانسیں لے رہی تھیں اور لوگ ان کے اسپتال میں گھس کر ان کی ویڈیو بنانے کی کوشش کر رہے تھے‘ میاں نواز شریف کے

پوتے اور نواسے ہجوم سے بھڑ گئے اور بات تھانے تک پہنچ گئی‘ یہ نواسے کا پولو میچ دیکھنے گئے اور لوگوں نے تماشا لگا لیا‘ اسحاق ڈار مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں تو لوگ ان کی ویڈیو بنانے لگتے ہیں‘ یہ رک کر ان سے آرگومنٹ کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ تماشا بھی پوری دنیا نے دیکھا‘ والدین انسان کا اثاثہ ہوتے ہیں۔دنیا کے ہر بیٹے کی خواہش ہوتی ہے وہ اپنے والدین کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارے لیکن آپ میاں نواز شریف کی بدقسمتی دیکھیں‘ ان کے والد 2004 میں فوت ہوئے تو انھیں غیروں نے لحد میں اتارا‘ والدہ کا22نومبر 2020 کو انتقال ہوا‘ ان کی میت کارگو کے ذریعے لاہور آئی اور میاں نواز شریف ان کے جنازے کو کندھا نہ دے سکے اور محترمہ کلثوم نواز کے جنازے میں ان کے بیٹے شریک نہ ہو سکے‘ کیا یہ بدنصیبی نہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.