معروف بھارتی اداکارہ مینا کماری کی زندگی کے دکھڑے :

لاہور (ویب ڈیسک) مینا کماری اپنی کہانی سناتی ہیں کہ میری ٹریجڈی میرے دنیا میں آنے سے بھی پہلے شروع ہوگئی تھی۔ میرا پیدائشی نام مہ جبین تھا۔ میں نے جب اس دنیا میں آنکھ کھولی تو میرے اپنے باپ نے فیصلہ کیا کہ مجھے یتیم خانے میں چھوڑ دیا جائے۔

میرے والد کے اس فیصلے کے سامنے میری ماں نے بھی سر تسلیم خم کیا تھا لیکن پھر وہ اپنے اس ارادے سے باز رہے۔ میرے والد اولاد نرینہ کے خواہشمند تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اُن کے ہاں بیٹا پیدا ہو جو بڑھاپے میں خاندان کا سہارا بنے۔پھر مینا کماری نے اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لیے اس سے بھی زیادہ کیا جو گھر والوں نے لڑکا پیدا ہونے کی صورت میں سوچا تھا۔ مہ جبین صرف چار سال کی عمر میں فلموں میں کام کرنے لگی تھیں۔ننھی سی جان دو، دو شفٹوں میں 16 گھنٹے کام کر کے رات دیر گئے گھر پہنچتی تو بستر پر گر جاتی۔ ابھی اس کی نیند پوری بھی نہیں ہوتی تھی کہ صبح ہونے پر ماں اسے اگلی فلم کی عکسبندی کے لیے تیار کرتی اور باپ اسے لے کر سٹوڈیو پہنچ جایا کرتا۔وہ چائلڈ سٹار کے طور پر اس وقت کی فلموں کا لازمی حصہ بن گئی تھیں۔چار سے تقریباً 11 سال کی عمر تک وہ چائلڈ سٹار کے طور پر کام کرتی رہیں۔ کوئی 14 سال کی عمر میں وہ ابھی پوری طرح جوان بھی نہیں ہو پائی تھیں کہ اُنھیں خاص قسم کے کردار دیے جانے لگے۔ مینا کماری کو لڑکپن میں ایک جوان لڑکی کا کردار نبھانے کے لیے خاص میک اپ اور مصنوعی اعضا کا استعمال کرنا پڑتا تھا۔مینا کماری کے والد ماسٹر علی بخش کا تعلق پاکستانی پنجاب کے علاقے بھیرہ سے تھا۔ ماسٹر علی بخش پارسی تھیٹر میں ہارمونیم بجاتے تھے اور موسیقی کی تعلیم بھی دیتے تھے۔اُنھوں نے فلم ‘شاہی لٹیرے’ کے گیت لکھے اور موسیقی ترتیب دی تھی۔

ماسٹر علی بخش ہر فن مولا قسم کے فنکار تھے۔مینا کماری کے والدین اگرچہ دونوں کام کرتے تھے لیکن اس کے باوجود گھر بار چلانے میں دقت پیش آ رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب ان کے ہاں ایک اور بیٹی پیدا ہو گئی تو اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ اسے اناتھ آشرم (یتیم خانے) چھوڑ آتے ہیں۔ لیکن وہ اس پر عمل نہ کر پائے اور پھر اس بچی نے گھر والوں کی دنیا بدل دی۔خود مینا کماری سے جب پوچھا گیا کہ آپ کے کیریئر میں آپ کو اپنا کون سا کردار مشکل لگا، تو اس پر مینا کماری نے کہا کہ ‘صاحب بی بی اور غلام’ میں اُنھوں نے ایک باغی عورت کا کردار کیا تھا۔یہ کردار پیچیدہ اس لیے تھا کیونکہ یہ عورت ظاہری طور پر جتنی باغی دکھائی دیتی ہے اندر سے اتنی ہی روایت پسند ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ’صاحب بی بی اور غلام‘ کی مینا کماری اور اصلی مینا کماری میں فرق نہیں تھا۔مینا کماری کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ مینا کماری فنکارہ بڑی تھیں یا انسان؟کسی صحافی نے اُن سے عجیب سوال کیا کہ آپ نے چار سال کی عمر میں اپنے لیے اداکاری کا انتخاب کیا؟ اس پر مینا کماری ہنس دیں اور پھر قدرے سنجیدگی سے کہنے لگیں کہ چار سال کی عمر میں کون انتخاب کر سکتا ہے کہ وہ کیا بنے گا یا کیا کرے گا؟ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ میری تقدیر اور حالات نے مجھے اداکاری کرنے کے لیے منتخب کر لیا۔

اپنے اندر کی اداسی اور محرومیوں سے شکست خوردہ مینا کماری نے اپنے سے 15 برس بڑے کمال امروہی سے شادی کی مگر بدقسمتی سے اور بھی دکھ اپنی جھولی میں ڈال لیے۔ مینا کماری نے اپنے عروج کے زمانے میں کمال امروہی سے شادی کی تھی۔سہراب مودی نے ایک مرتبہ مہاراشٹر کے گورنر سے تعارف کرواتے ہوئے کہہ دیا کہ یہ مشہور اداکارہ مینا کماری ہیں اور یہ ان کے شوہر کمال امروہی ہیں۔ اس پر کمال نے فوراً کہا کہ میں کمال امروہی ہوں اور یہ میری بیوی مشہور اداکارہ مینا کماری ہیں۔مینا کماری کو رات بھر جاگنے کی بیماری لاحق ہو گئی تھی۔ سنہ 1963 میں ڈاکٹر نے مینا کماری کو تجویز کیا کہ وہ نیند لینے کے لیے ایک جام برانڈی کا پی لیا کریں۔نیند کا یہ نسخہ مینا کماری نے اپنے لیے موت کا نسخہ بنا لیا۔ کثرتِ مے نوشی سے مینا کماری کو جگر کا سرطان لاحق ہو گیا تھا۔ سنہ 1968 میں اُنھیں علاج کے لیے سوئٹزر لینڈ اور لندن لے جایا گیا جہاں وہ جون سے اگست تک اپنی معالج ڈاکٹر شیلا شرلاک کے پاس زیر علاج رہیں۔ایک مرتبہ نرگس نے مینا کماری کا دکھ اور اضطراب دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ ‘مینا! تمھیں آرام کرنا چاہیے۔ اس پر مینا کماری نے کہا تھا کہ ‘آرام میرے بھاگ میں کہاں۔ میں ایک ہی مرتبہ آرام کروں گی۔‘مینا کماری اور نرگس کا رشتہ بہنوں جیسا تھا۔ مینا کماری نرگس کو باجی کہا کرتی تھیں۔دونوں دکھ سکھ کی ساتھی تھیں۔ دو دن کومے میں رہنے کے بعد جب مینا کماری چل بسیں گئیں تو نرگس کا تعزیتی جملہ روح تڑپا دینے والا تھا۔ نرگس نے مینا کماری کی میت سے مخاطب ہو کر خشک پتھرائی ہوئی آنکھوں سے کہا تھا کہ ‘مینا! تمھیں موت مبارک ہو۔’دکھوں اور آلام کی شاید یہی وہ منزل ہے جس کے لیے غالب نے بھی کہا تھا کہ۔۔رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج۔۔مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.