مگر انکے صاحبزادے تیمور علی خان کہاں رہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں؟

لاہور (ویب ڈٰیسک) نامور صحافی محمد نواز رضا اپنے ایک خصوصی تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسلسل 8بار قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے والا پاکستان کا واحد سیاستدان چوہدری نثار علی خان 25جولائی 2018کے ’’متنازعہ‘‘ انتخابات کی ’’بھینٹ‘‘چڑھ گیا ہے۔ بطور احتجاج گوشۂ گمنامی اختیار کر رکھی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں ان کی مسلسل 8بار کامیابی

کا ریکارڈ تو کوئی نہیں توڑ سکا لیکن تین سال قبل ہونے والے متنازعہ انتخابات میں مسلسل 9ویں بار کامیابی کا ریکارڈ چھین لیا گیا، اب آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے متنازعہ انتخابات میں بیرسٹر سلطان محمود نے مسلسل 9ویں بار کامیابی کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ چوہدری نثار علی خان تین سال گزرنے کے باوجود مسلط کی گئی ’’شکست‘‘ کو بھلا نہیں پائے۔ وہ آج بھی جس محفل میں بیٹھتے ہیں، بات ان کی شکست کے پس پردہ عوامل پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے اس شکست کے بعد ’’خاموشی‘‘ اختیار کررکھی ہے۔میڈیا کی ان تک رسائی نہیں، وہ میڈیا کے لوگوں سے کوئی ملاقات نہیں کرتے۔ ویسے بھی عام حالات میں ان سے رابطہ کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ ان کی طویل ’’خاموشی‘‘ افواہوں کو جنم دیتی ہے۔ ان کو ’’طاقتوروں‘‘ کی جانب سے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ ایک بار نہیں تین بار ’’طشتری‘‘ میں پیش کی گئی لیکن انہوں نے اپنے اصولی موقف کی پاسداری کرتے ہوئے ہمیشہ اس اعلیٰ منصب کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ گزشتہ سال پاکستان میں کووڈ19کے پنجے گاڑنے سے چند روز قبل میری چوہدری نثار علی خان سے آخری ملاقات مسلم لیگی رہنما خان اکبر شاہین کی رہائش گاہ ’’گولڑہ ہائوس‘‘ میں ہوئی تھی۔ اِس ملاقات میں ہماری طویل ’’آف دی ریکارڈ‘‘ نشست ہوئی۔ محفل کے دیگر شرکاء بھی وہی پانچ صحافی تھے جو پچھلے کئی برسوں سے ان سے ملاقاتیں کرتے چلے آرہے ہیں۔ ’’ہائی ٹی‘‘ کی دعوت میں چوہدری نثار علی خان کے ’’سیاسی جانشین‘‘ چوہدری تیمور علی خان کی بہ نفس نفیس موجودگی سرپرائز تھا۔

چوہدری تیمور علی خان جو ان دنوں ملازمت کے لئے امریکہ میں مقیم ہیں، اپنا بوریا بستر سمیٹ کر پاکستان کی سیاست میں حصہ لینے کے لئے پر تول رہے ہیں، ان کے عزائم سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان ان کے عملی سیاست میں حصہ لینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، ان کا موقف ہے انہیں میری سیاست سے ریٹائرمنٹ کا انتظار کرنا چاہئے تاہم انہوں نے چوہدری تیمور علی خان کی سیاست میں معاونت کا خیر مقدم کیا ہے۔ چوہدری نثار علی خان کا سیاسی رکھ رکھائو عام سیاست دانوں سے قدرے مختلف ہے۔وہ آج بھی اپنے حلقہ کے ان لوگوں سے رابطے میں ہیں جو ان کی نظروں میں سیاسی وزن رکھتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان ’’گوشہ نشین‘‘ ہونے کے باوجود عملی سیاست سے الگ تھلگ نہیں ہوئے، وہ مسلم لیگ (ن) میں، جہاں سے بقول ان کو نکالا گیا ہے، واپس جانے کے لئے تیار نہیں۔ مسلم لیگ (ن) میں کوئی ایسا بڑا لیڈر بھی موجود نہیں جو نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان میں صلح کرانے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر ایسے لوگوں کی تعداد کم نہیں جو چوہدری نثار علی خان کی ’’ری انٹری‘‘ کے خلاف ہیں، وہ تو مفاہمت کے’’بادشاہ‘‘ شہباز شریف کے پارٹی چھوڑنے کے منتظر ہیں۔ چوہدری نثار علی خان سے شہباز شریف کیساتھ رابطہ بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے ’’خاموشی‘‘ اختیار کر لی۔ باور کیا جاتا ہے کہ شہباز شریف ان سے رابطے میں ہیں لیکن وہ مصلحتاً اسے ریکارڈ پر نہیں لانا چاہتے۔

چوہدری صاحب ملکی سیاسی صورت حال سے خاصے مایوس دکھائی دیتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ پورا ملک بند گلی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ چوہدری نثار علی خان پچھلے تین برس سے سیاسی منظر واضح ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ اندھیرے میں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جو ان کے دامن کو داغدار کردے اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو سیاسی آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے ’’خاموشی‘‘ اختیار کر رکھی ہے۔ ہم نے ان کی ’’خاموشی‘‘ توڑنے کی بڑی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی انہوں نے بتایا کہ جمہوریت کے بعض چیمپئن دن کے اجالے میں جمہوریت کے راگ الاپتے ہیں اور رات کے اندھیرے میں طاقتور قوتوں سے اشیرباد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے اپنی گفتگو سے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ ان کا جھکائو کس جماعت کی طرف ہے تاہم وہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے طرز عمل سے دکھی نظر آتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نواز شریف سے قطع تعلق کرنے کے عوامل پر کھل کر کوئی بات کرنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی نواز شریف اس موضوع پر کسی سوال کا جواب دیتے ہیں۔ وہ برملا یہ کہتے ہیں 2013کے انتخابات بعد نواز شریف وہ نواز شریف نہیں رہا تھا جس کے ساتھ چوہدری نثار علی خان نے بھرپور انداز میں اقتدار انجوائے کیا تھا، اب ان کا چوہدری نثار علی خان کے ساتھ خاصا بدلا ہوا رویہ تھا۔ چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ان کا رویہ ’’بادشاہوں‘‘ جیسا تھا، جب نواز شریف کو یقین ہو چلا کہ چوہدری نثار علی خان ان کی سیاسی جانشین مریم نواز کی راہ میں سنگ حائل کر رہے ہیں تو دونوں کے درمیان دوستی نے اجنبیت کی شکل اختیار کر لی۔ چوہدری نثار علی خان نے قبل از وقت انتخابات کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.