کیا نواز شریف کا بیانیہ فیل ہو چکا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی اشعر رحمٰن بی بی سی کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آخری عام انتخابات کے کوئی تین برس بعد بالآخر وہ وقت آ پہنچا ہے جب وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو پورے تین برس اس مقام پر آنے میں لگے ہیں جہاں وہ اور ان کی جماعت

تحریک انصاف یہ دعویٰ کر سکیں کہ انھوں نے میاں نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ نون کو ان کے اپنے علاقے میں خاصی سنجیدہ مشکلات سے دوچار کیا۔سیالکوٹ براستہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اتنی شدید چوٹ ہے کہ یہ سہلانے میں نہیں آ رہی۔ نون لیگ کی تمام تر تاویلات کے باوجود پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پھر سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں شکست یہ گواہی دے رہی ہے کہ یا تو میاں صاحب کا کیمپ کمزوری کی طرف مائل ہے یا پھر تحریک انصاف آخر کار اس راز کو پا گئی ہے کہ نون لیگ، جس کی جڑیں عوام میں بہت گہری سمجھی جاتی ہیں، کو کس طرح زیر کیا جا سکتا ہے۔بلکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ اس جانب پسپائی اور عمراں خان کے خیمہ میں اٹھان، یہ دونوں عوامل بیک وقت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور سیالکوٹ کے محاذوں پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ایسے موقع پر کہا جاتا ہے کہ یہ صورتحال فلاں شخص یا فلاں گروپ یا پارٹی کے لیے تشویش کا باعث ہے تو یہ پریشانی تو بہرحال اب ہاؤس آف شریف کو لاحق ہے۔نون لیگ میں بہت جان تھی اور اب بھی ہے۔ اس پارٹی نے مخاصمت یا پھر بعض لوگوں کے نزدیک انتقام سے بھری اور اسٹیبلشمنٹ کی قربت کی دعویدار حکومت کا ایک بڑے عرصے تک اپنے بیانیے پر زور دیتے ہوئے بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا۔کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک انوکھا واقعہ تھا جو حیرت انگیز طور پر مسلم لیگ جیسی ساخت رکھنے والی پارٹی سے برپا ہوا

مگر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ناکامی، جہاں پی ایم ایل این محض چھ سیٹیں لے سکی اور اس کے بعد سیالکوٹ میں پنجاب اسمبلی کی نشست نے واضح کر دیا کہ ماضی کوئی اور ملک تھا اور مستقبل ہاؤس آف شریف کے لیے کوئی اور ہی بستی ثابت ہو سکتا ہے۔تحریک انصاف کے لیڈروں کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں، ٹی وی پروگراموں میں ان کی ہنسی ہے کہ دبائے نہیں جا رہی۔ فتح کے جھنڈے، جو جا بجا انسانی شکل میں دستیاب ہیں، ببانگ دہل نعروں کی گونج میں بجے جا رہے ہیں۔ایسی صورتحال میں جب فضا گنڈا پوری ہیبت سے لرز رہی ہے، ہمارے لائلپوری کھوجی گل صاحب یہ خبر لائے ہیں کہ مسلم لیگ نون میں یعنی شریفوں کے مکان میں اور اتفاق والوں کی پرانی جمی ہوئی دکان میں وہ پھوٹ پڑ گئی ہے جس کی ان کے مخالفین کو عرصے سے تلاش تھی۔ادھر عمران خان صاحب کہ ساتھ پوری لائل فردوس عاشق اعوان اور ان کے رفقا سیالکوٹ میں میاں صاحب کی غیر اسٹیبلشمنٹوی فوج کو پچھاڑنے کے بعد تحریک انصاف کو ایک تابناک مستقبل کی بشارت دے رہے ہیں۔ایک ایسے اہم موقع پر مریم نواز صاحبہ بیماری کی وجہ سے سٹیج سے غائب ہیں۔ ان کے گرو اور والد گرامی خود آج کل ذرا لیے دیے ہی رہتے ہیں اور چچا جان شہباز شریف تو خیر نون لیگ کے اندر ایک معتدل دھڑے کے اتنے نمایاں سر پرست ہیں کہ ان سے پارٹی کے مشہور (اب شاید تیزی سے بدنام ہوتے ہوئے) بیانیہ کو بچانے کی کسی کوشش کی امید ہی بے سود ہے۔

جی ہاں میاں صاحب کا بیانیہ خطرے میں ہے، شاید اس سے بھی زیادہ خطرے میں جس کہ بارے میں ایک پورا مجمع نون لیگ کو خبردار کر رہا ہے۔ شور بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ بیانیہ نہیں چل سکتا، اس کے ساتھ الیکشن نہیں جیتے جا سکتے اور بہت سے ماہرین کا یہی خیال ہے لیکن پی ٹی آئی کے لیے یہ موقع شاید ابھی جشن منانے کا نہیں۔ اسے نا تجربہ کار قیادت کی وجہ سے اپنے اندر خامیوں کو چھپا کہ رکھنا پڑے گا۔اگر سیالکوٹ میں تحریک انصاف کی کامیابی نون لیگ کے غلط بیانیے کی وجہ سے ہے تو پھر یہ عمران خان اور ان کی ٹیم کے حق میں ہو گا کہ نون لیگ اور ان سے منسلک چند نمایاں سپرا جرنلسٹس بیانیہ کا یہ راگ الاپتے رہیں، تا وقت کہ بیانیے کی شدت شریفوں کے دربار کو بھسم کر دے۔پرانی اور اصلی نون لیگ کے اندر بہت سے لوگ ہوں گے جو یہ اصرار کریں گے کہ بات اس قدر کبھی نہیں بڑھے گی اور یہ راگ اس نہج تک جانے سے پہلے ہی کوئی استاد اس بھیانک سُر کو سنبھال لے گا۔بہر صورت ابھی اس بحث کو جگایا جا سکتا ہے کہ آیا مسلم لیگ کے ہتھے سے اکھڑا ہوا یہ دھڑا جو فوج مخالف بیانیہ کا بوجھ اٹھائے جگہ جگہ رسوا ہو رہا ہے، اس کی قیادت میاں نواز شریف کے ہاتھ ہے یا بی بی مریم نواز ان پوسٹ ماڈرنسٹ لیگیوں کی لیڈر ہیں۔وہ تمام اصحاب جو نون لیگ کو بغاوت پر اکساتے چلے آئے ہیں خبردار رہیں کیونکہ یہ سیاست ہے، پاکستانی سیاست۔

میاں صاحب کے پاس اب بھی یہ آپشن موجود ہے جس کے تحت وہ اس تمام بیانیہ کی ذمہ داری مریم بی بی کے سر پر ڈال کر خود اپنے کاروبار کے اعتدال پسند شراکت کاروں سے جا ملیں۔ جی تو یہ چاہتا ہے کہ نعرہ لگائیں اور شامل ہو جائیں اس چھٹتی بھیڑ میں جس میں موجود پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ کاروبار کے یہ طریقے اب پرانے ہو چکے ہیں اور تبدیلی کا وقت بس آیا چاہتا ہے۔نواز شریف صاحب کا بیانیہ نہ ترک کرنے کے بیان کے بعد اگلا سوال یہ ہے کہ کیا ان کی آواز میں لبیک کہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے یا کمی؟چھوٹے بڑے انتخابات میں جیت حوصلہ قائم رکھنے کا ہمیشہ ایک اچھا ذریعہ ہوتے ہیں۔ نون لیگ کو عوام کا جذبہ بر قرار رکھنے کے کوئی دوسرے طریقے بھی سوچنے پڑیں گے، مزید زور لگانا پڑے گا کیونکہ آگے چڑھائی ہے۔یہ ایک انتہائی فیصلہ کن لمحہ ہے اور اس بات کا مزید ثبوت میاں شہباز کا متحرک ہونا ہے۔ بحیثیت صدر پی ایم ایل این شہباز صاحب دو محاذوں پر لڑتے نظر آتے ہیں۔ایکُ طرف وہ عمران خان کی حکومت پر شدید تنقید کرتے سنائی دیتے ہیں اور اپنی حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ملتے ہیں کہ اس امر کے باوجود کہ خان صاحب کو ان قوتوں کا بھرپور ساتھ حاصل ہے جن کی آشیرواد کے بغیر شہباز صاحب اپنی پارٹی کی سیاست نا مکمل سمجھتے ہیں، تحریک انصاف حکومت ترقی کے ضمن میں کچھ نہیں کر پائی ہے۔ساتھ ساتھ شہباز شریف اپنی پارٹی بلکہ اپنی شریف فیمیلی کے ناراض سیاستدانوں، نواز شریف اور مریم نواز کو یہ نکتہ سمجھانے کی سخت کوشش میں ہیں کہ مفاہمت کے لفظ کو غلط معنی میں ان سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے سلیم صافی کو ایک انٹرویو کے دوران یہ باور کرانے کی بھرپور سعی کی کہ ان کا مطلب اور مقصد نیشنل رکنسیلی ایشن ہے نہ کہ کوئی عام سی مفاہمت جس سے انُ کی پارٹی کی سبکی ہوتی ہو۔شہباز شریف کی اپنی پارٹی راہ راست پر لانے کی یہ ایک اور مہم ہے۔ اس بار فرق یہ ہے کہ مسلم لیگ کے کارکنان اور لیڈر عمران خان کے سپاہیوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کی چاپ زیادہ واضح طور ہر سن سکتے ہیں۔ یہ بات شہباز شریف اور ان کی پسندیدہ سیاست کے حق میں جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.