بھارتی سپریم کورٹ سے تہلکہ خیز حکم جاری ہو گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور صحافی انصار عباسی اپنے ایک خصوصی تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جج صاحبان اپنی حدود یاد رکھیں اور جہاں پناہ نہ بنیں۔ یہ بات بھارتی سپریم کورٹ نے حال ہی میں کہی ہے اور ملک کی چند ایسی ہائی کورٹس کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے جنہوں نے

سرکاری ملازمین کو طلب کرنا معمول کا حصہ بنا لیا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی مفاد کے خلاف ہے کیونکہ جن افسران کو طلب کیا جاتا ہے انہیں دیا جانے والا کام اور ذمہ داریاں پوری کرنے میں تاخیر ہوتی ہے۔ایک سینئر بیوروکریٹ نے اس نمائندے کو بھارتی میڈیا میں چلنے والی اس خبر کا حوالہ دیا اور حیرانی ظاہر کی کہ پاکستان کی سپریم کورٹ بھی اس مسئلے پر نظر ڈالے گی یا نہیں کہ کس باقاعدگی کے ساتھ عدالتیں سرکاری ملازمین کو طلب کرتی ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ کیسز میں سرکاری ملازمین پر دبائو ڈالا جاتا ہے کہ وہ عدالت کی خواہشات کے مطابق عمل کریں۔ گزشتہ ہفتے بھارتی میڈیا میں خبر آئی تھی کہ ججوں کو جہاں پناہ (بادشاہ) نہیں بننا چاہئے، عدالت نے سرکاری ملازمین کو بار بار طلب کرنے کی روش کی مذمت کی کیونکہ ان ملازمین کو فوری طور پر طلب کرکے بالواسطہ یا بلاواسطہ دبائو ڈالا جاتا ہے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس سنجئے کشن کول اور جسٹس ہیمنت گپتا پر مشتمل بینچ نے اس بات پر ناراضی ظاہر کی کہ کچھ ہائی کورٹس نے سرکاری افسران کو طلب کرنا معمول بنا لیا ہے جس سے انہیں دیے جانے والے اہم کام کاج میں تاخیر ہوتی ہے اور یہ صورتحال عوام کے مفاد میں نہیں۔ دونوں ججز پر مشتمل بینچ نے سپریم کورٹ کے 2008ء کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ججوں کو اپنی حدود یاد رکھنا چاہئے، ان میں عاجزی اور انکساری ہونا چاہئے، انہیں بادشاہ نہیں بننا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.