پاکستان میں سول سروس میں اصلاحات کا کام اب کون کرے گا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پی ٹی آئی حکومت کے چیف اصلاح کار، ڈاکٹر عشرت حسین کے جانے کے بعد عمران خان کی کابینہ میں شامل وزراء ہی اب سول سروس اصلاحات کا فیصلہ کریں گے۔وزیراعظم کے مشیر برائے سول سروس ریفارمز ڈاکٹر عشرت حسین

نے حال ہی میں استعفیٰ دیا تھا جسے وزیراعظم عمران خان نے ابھی منظور کرنا ہے۔عشرت حسین کے جانے کے بعد سول سروس اصلاحات کی قسمت کا فیصلہ شفقت محمود کی زیر قیادت کمیٹی کے ہاتھ میں رہ جائے گا۔ سرکاری ذرائع کہتے ہیں کہ کابینہ کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی کے ساتھ کم از کم ہفتے میں ایک مرتبہ ہوگا جس میں بیوروکریسی کے ڈھانچے میں تبدیلی کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔ اس ذیلی کمیٹی کی قیادت وزیر تعلیم شفقت محمود کر رہے ہیں جبکہ دیگر ارکان میں کابینہ کے وزراء پرویز خٹک، خسرو بختیار، فخر امام اور شہزاد ارباب ہیں۔صرف شہزاد ارباب ریٹائرڈ سیکریٹری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ ہیں، جبکہ باقی سب ارکان سیاست دان ہیں۔ ڈاکٹر عشرت حسین کے حکومت چھوڑتے ہی ان کی ٹاسک فورس ختم ہوجائے گی۔ اپنے استعفے میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ یکم ستمبر 2021ء سے دستیاب نہیں ہونگے۔سرکاری ذریعے کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر عشرت کام کرتے رہیں لیکن ڈاکٹر عشرت کی رائے ہے کہ انہوں نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے جسے کابینہ منظور کر چکی ہے اور اب یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ منظور شدہ ریفارمز پر عمل کرائے۔ تاہم، آزاد ذرائع کا اصرار ہے کہ وزراء اور وزارتیں ان اصلاحات پر عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ڈاکٹر عشرت حسین سیاسی بردباری نہ ہونے اور اصلاحات پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے مایوس تھے۔ لیکن اب پوری سول سروسز کا ریفارمز ایجنڈا سیاستدانوں کے غلبے والی کابینہ کمیٹی کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔ اگرچہ ڈاکٹر عشرت حسین نے اصلاحات کے حوالے سے کئی تجاویز منظور کرائیں

لیکن سول بیوروکریسی میں سیاست کے عمل دخل کا بنیادی معاملہ جوں کا توں رہ گیا۔ وفاقی سیکریٹریز اور سرکاری اداروں کے سربراہان کے تقرر کا طریقہ کار منظور ہو چکا ہے اور اس پر عمل بھی کیا جا رہا ہے لیکن سرکاری ملازمین کے عہدوں کی معیاد کا معاملہ بڑے پیمانے پر اب بھی غیر محفوظ ہے۔عدم تحفظ کا یہ معاملہ بزدار حکومت میں سب سے زیادہ ہے جہاں مختلف محکموں کے سیکریٹریز سے لیکر اہم فیلڈ افسران بشمول کمشنر، ڈپٹی کمشنر، پولیس افسران وغیرہ کا سیاستدانوں کی خواہش کے مطابق تبادلہ معمول بن چکا ہے۔ پولیس کا محکمہ بھی سیاست زدہ ہو چکا ہے جس کی پہلے مثال نہیں ملتی اور اب وفاقی سطح پر اور نہ ہی صوبائی سطح پر ایسا ہے جو پنجاب میں پولیس اصلاحات لائے۔اقتدار میں آنے سے قبل وزیراعظم عمران خان نے سابق آئی جی کے پی کے ناصر درانی (جن کا حال ہی میں کورونا کی وجہ سے انتقال ہوا ہے) کی ذمہ داری لگائی تھی کہ پولیس بالخصوص پنجاب میں پولیس اصلاحات لائی جائیں۔ تاہم، صوبائی چیفس کے مسلسل تبادلوں کی وجہ سے درانی مایوس ہوگئے اور استعفیٰ دیدیا۔بعد میں پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی کہ وہ اصلاحات کا کام کرے لیکن اس کمیٹی نے بھی کوئی رپورٹ تیار نہیں کی اور نتیجتاً پولیس سیاست زدہ اور ویسی کی ویسی ہی رہی۔اپنے انتخابی منشور میں پی ٹی آئی نے وعدہ کیا تھا کہ پولیس کو سیاست سے پاک کرے گی اور کے پی کے کامیاب پولیس ریفارم ماڈل پر پولیس کی ڈھانچہ سازی کرے گی جسے قومی سطح پر پھیلایا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے منشور میں اعتراف کیا گیا تھا کہ پاکستان پولیس کے پاس ضروری ساز و سامان نہیں، تربیت بھی ٹھیک نہیں، ادارہ سیاست میں لتھڑا ہوا ہے اور گہرائی تک بدعنوان ہے۔اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا کہ پولیس اصلاحات کو ہر آنے والی حکومت نے نظرانداز کیا ہے اور اسے سیاسی آلہ بنا کر استعمال کیا گیا ہے۔ منشور میں وعدہ کیا گیا تھا کہ پولیس میں اصلاحات کے پی پولیس ایکٹ 2017ء کی طرز پر لا کر اس کا دائرہ پورے ملک میں پھیلایا جائے گا، سیاست سے ادارے کو پاک کیا جائے گا، پیشہ واریت لائی جائے گی اور بھرتی، ترقی اور تبادلے کا نظام ٹھیک کیا جائے گا۔یہ بھی کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی نئے پولیسنگ سسٹم میں سرمایہ کاری کرے گی اور کارکردگی کا پتہ لگانے کا میکنزم بنایا جائے گا، اضلاع کو جدید مانیٹرنگ اور نگرانی کے ساز و سامان دیے جائیں گے، کمان اینڈ کنٹرول سینٹرز بنائے جائیں گے۔ کئی باتیں کی گئی تھیں اور بڑے وعدے کیے گئے تھے لیکن منشور میں کیے گئے وعدے وفا نہیں ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.