حکومت پاکستان نے افغان حکومت کو پیغام بھجوا دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ افغان حکومت جان بوجھ کر پاکستان کو قربانی کا بکرابنانے کی کوشش کر رہی ہے‘افغانستان اپنی ناکامیوں کا ملبہ ہم پر نہ ڈالے ‘امریکا نے ہم سے کچھ نہیں مانگا‘افغان حکومت کو اب عسکری فتح کی کوشش نہیں کرنی چاہیے‘

پاکستان کابل پر زبردستی قبضے کو قبول نہیں کرے گا‘افغانستان کی حکومت اور تالبان کو امن معاہدے تک پہنچنے کے لئے سمجھوتہ کرناچاہئے ۔دورہ امریکا کے اختتام پر واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستان تالبان پر کوئی اثرو رسوخ رکھتا ہے۔میں نے امریکی صدر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو فون نہ کرنے کی شکایت نہیں کی۔ فون کرنا نہ کرنا کوئی مسئلہ نہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ کابل میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ رکھے اور اسے اب افغان مسئلہ کے حل کےلئے فوجی فتح کی تلاش سے روکنے کی ضرورت ہے، آئندہ کسی بھی مذاکرات میں افغانوں کی ایک وسیع رینج کو شامل کیا جانا چاہئے ‘ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ ہم زبردستی قبضہ قبول نہیں کریں گے، دنیا کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکا ایک سیاسی تصفیے میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ ان کے امریکی ہم منصب جیک سلیوان اور صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں نے پاکستان سے کوئی مخصوص درخواستیں نہیں کیں تاہم اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ ہم افغان تنازع کے تمام فریقوںکو کتنی جلدی مخلصانہ مذاکرات کے لئے ایک جگہ لاسکتے ہیں۔قومی سلامتی مشیر نے کہا کہ اب جبکہ افغانستان سے فوج کا انخلا ہوا ہے، پاکستان کے تالبان پر اثرورسوخ میں مزید کمی آئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.