حسن نثار کے قلم سے ۔۔۔۔۔۔۔

’لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ثنا خوان تقدیس مشرق‘‘ …..یہ چادریں چاردیواریاں، یہ بیٹیاں سانجھی ہونے والے محاورے . . . . . یہ سب کیا رطب و یابس ہے؟ یہ غیرتوں پر واردارت کیا شے ہے؟ ہر روز ’’حقوق نسواں‘‘ کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہونے پر

پردوں کی دھجیاں اڑتی ہیں، شور مچتا ہے، خبریں، کالم چھپتے ہیں اور پھر ’’زندہ‘‘ لوگوں پر سکوت مرگ طاری ہو جاتا ہے۔ کوئی ہے جو اس صورت حال کی سنگینی کا سنجیدگی سے نوٹس لے یا اس ملک کے بڑوں نے اسے ’’وے آف لائف‘‘ سمجھ کر قبول کرلیا ہے؟ یا ہمارے نصیبوں میں ہنجر وال سے لے کر لندن تک ہزیمت اور ندامت ہی لکھی ہے۔ جب تک یہی سین چلنے ہیںتب تک ’’اسلامی‘‘ اور ’’جمہوریہ‘‘ جیسے لفظ معطل ہی کیوں نہ کردیئے جائیں کہ ہماری ٹائپ کی جمہوریت کے ایک صحت مند سمبل، تین بار وزیراعظم رہ چکے ’’انقلابی‘‘ اور ’’نظریاتی‘‘ المعروف ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اور ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا ویزا ختم، قیام میں توسیع کی درخواست مسترد ہو چکی ۔ اب یہ ’’انقلابی‘‘ عدالتی آنکھ مچولی کھیلنا شروع کرے گا۔ نتیجہ جو بھی نکلے لیکن ایک بات طے کہ شرمندگی ہم غیوروں باشعوروں کے کھاتے چڑھ چکی ۔اک اور دلچسپ پہلو یہ کہ ’’ابا جی‘‘ کے ویزے میں توسیع کی درخواست برطانوی شہری ہونے کی بنیاد پر ان کے صاحبزادے حسن نواز نے دی تھی جسے ہوم آفس نے مسترد کردیا۔واہ . . . . . . اولادیں اور جائیدادیں انگلستان میں اور پاکستان کے حصہ میں آئی ’’ووٹ کی عزت‘‘ ملک ان کا انگلستان ہی ہے،پاکستان ’’ہوم میڈ قائد اعظم ثانی‘‘ نے صرف حکمرانی کے لئے رکھا ہوا ہے۔قائداعظم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر انگلستان سے آئے تاکہ قیام پاکستان کی چومکھی لڑائی لڑ سکیں جبکہ ’’ثانی صاحب‘‘ گوالمنڈی لاہور والا پاکستان چھوڑ چھاڑ کر انگلستان میں ویزے کی توسیع کے لئے درخواستیں دے کر ووٹ کو عزت دیتے ہوئے جنرل ضیا الحق مرحوم کو دعائیں دے رہے ہیں کیونکہ بیٹے برطانوی شہری ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.