سابق جج شوکت صدیقی کی سپریم کورٹ سے اپیل

اسلام آباد (ویب ڈیسک)اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کیلئے تشکیل دیے گئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں نوکری سے برطرف کئے گئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج ،شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس گلزار احمد کواپنی آئینی درخواست کی جلد سماعت کے حوالے سے ایک اور خط لکھ دیا ہے،جمعہ کے روز

چیف جسٹس کو بھجوائے گئے خط میں درخواست گزار شوکت عزیز صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کیخلاف دائر آئینی درخواست نمٹانے میں تاخیر پر سوالات اٹھاتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ ایک پاکستانی شہری کے طور پر میرے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک آئین کی روح کے منافی اور انصاف کے زریں اصولوں کی صریحاًخلاف ورزی ہے،انہوں نے کہا ہے کہ مجھے آئین کی شق ہائے 19,18,14,13,12,9,4 اور 25 میں دیئے گئے تمام تحفظات اور حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے، اس طرز عمل کا براہ راست اثر میرے وسائل رزق پر پڑا ہے اور عملاً مجھے زندہ رہنے اور رزق حلال کمانے کے بنیادی حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔اس طرز عمل کا براہ راست اثر میرے وسائل رزق پر پڑا ہے اور عملاً مجھے زندہ رہنے اور رزق حلال کمانے کے بنیادی حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے، انصاف کو یقینی بنانے والوں میں سے شاید ہی کسی کو اندازہ ہو کہ میں کس طرح کے مصائب اور مشکلات کا شکار ہوں، آپ ٹھنڈے دماغ اور دردمنددل کیساتھ سوچیں گے تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ مجھے جس اقدام پر سزا دی گئی ہے وہ عمل وطن عزیز کے مروجہ قوانین اور آئین کے تحت کسی بھی جرم کے زمرہ میں ہی نہیں آتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.