میرے اوپر پابندی میں عمران خان کا کوئی قصور نہیں کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔حامد میر کا حیران کن بیان سامنے آگیا

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے چند افسران پر تنقید کے بعد آف ایئر کیے جانے والے سینیئر صحافی اور ٹی وی میزبان حامد میر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خوف کی فضا ہے اور صحافت مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں ان کا کہنا تھا کہ

وزیراعظم عمران خان ان پر عائد پابندی کے لیے ذمہ دار نہیں لیکن وہ ایک بےبس وزیراعظم ہیں اور ان کی مدد نہیں کر سکتے۔حامد میر کو مئی 2021 میں صحافی اور یوٹیوب ولاگر اسد طور کے ساتھ ہونے والے واقعہ کے بعد اُن کی حمایت میں منعقد ہونے والے ایک مظاہرے میں ان کے متنازع خطاب کے بعد سے پابندی کا سامنا ہے۔اس خطاب میں حامد میر نے فوج سے تعلق رکھنے والے کچھ افسران پر تنقید کرتے ہوئے انھیں تنبیہ کی تھی کہ آئندہ کسی صحافی کے ساتھ ایسے نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ ’گھر کی باتیں بتانے پر مجبور ہوں گے۔‘اس تقریر کے بعد دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جیو نیوز پر چلنے والے پروگرام کی میزبانی سے انھیں ہٹا دیا گیا تھا اور چینل کی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ انھیں ’چھٹی پر بھیجا گیا ہے۔‘ اس تقریر کے بعد مختلف شہروں میں اُن کے خلاف غداری کے مقدمات درج کرنے کی درخواستیں بھی دائر ہوئی تھیں۔بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کے دوران حامد میر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں سنسر شپ کی جیتی جاگتی مثال بن چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مشرف جیسے فوجی آمر نے بھی ان کے ٹی وی پر آنے پر پابندی لگائی لیکن وہ اخبار میں لکھتے رہے لیکن اب موجود دورِ حکومت میں انھیں اس کی بھی اجازت نہیں۔’ اب عمران خان وزیر اعظم ہیں اور بدقسمتی سے میرے صرف ٹی وی پر آنے پر پابندی نہیں بلکہ میں اپنے اخبار میں کالم بھی نہیں لکھ سکتا۔ تو پاکستان میں جمہوریت ہے لیکن جمہوریت نہیں ہے، اسی طرح آئین ہے اور آئین نہیں ہے۔ میں پاکستان میں سنسرشپ کی زندہ مثال ہوں۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published.