گلوکارہ کے سابق شوہر کا حیران کن بیان سامنے آگیا

کراچی(ویب ڈیسک )پاکستان کی مقبول ترین پاپ گلوکارہ نازیہ حسن کے شوہر اشتیاق بیگ نے زوہیب حسن کے الزامات پر عدالت سے رجوع کرنے اور ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائرکرنے کا اعلان کردیا۔ایک بیان میں مرزا اشتیاق بیگ کا کہنا تھا کہ نازیہ میری محبت تھی ہم بہت خوش تھے

میں آج بھی اس سے پیار کرتا ہوں، سرطان کی تشخیص کے باوجود ان سے شادی کی۔انہوں نے کہا کہ نازیہ حسن سے طلاق نہیں ہوئی تھی، آخری وقت تک ان کا شوہر رہا۔انہوں نے کہا کہ نازیہ حسن کے اہلخانہ نے طلاق کا جھوٹا سرٹیفکیٹ بنوایا تھا، نازیہ کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ میں ساری تفصیل موجود ہیں کہ ان کی موت کیسے ہوئی اور اس میں مجھے ان کا شوہر ہی بتایا گیا ہے۔بچے کی حوالگی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ نازیہ کی وفات سے قبل ان کے والد میرے پاس آئے انہوں نے کہا تھا کہ1 ملین پاونڈ دے دیں ہم بچے کی کسٹڈی دے دیں گے جس پر میں نے برطانیہ کی عدالت سے رجوع کیا جہاں عدالت نے مجھ سے پوچھا کہ بچہ برطانوی شہری ہے اس لیے کیا میں بچے کی لندن میں پرورش کرسکتا ہوں جس کے لیے میں تیار نہیں تھا تاہم نازیہ کی والدہ نے یہ زمہ داری اٹھانے کا کہا تو عدالت نے بطے کی حوالگی انہیں دے دی، ساتھ ہی نازیہ کی فیملی نے ان کے نام پر ٹرسٹ بنا کر خوب رقم بٹوری۔انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی میں مسائل اس وقت شروع ہوئے جب نازیہ نے شادی کے بعد گلوکاری چھوڑی تو زوہیب کا کیریئر ختم ہوگیا تھا جس کے بعد میرے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہوئے، زوہیب حسن متحدہ کے سرگرم کارکن تھے عشرت العباد کے ایڈوائزر تھے۔اشتیاق بیگ نے کہا کہ نازیہ کے علاج کے تمام اخراجات میں نے برداشت کئے، نازیہ اگر اولاد کی ضد نہ کرتیں تو شاید آج زندہ ہوتیں اور انہیں سرطان سے نجات بھی مل جاتی۔واضح رہے کہ نازیہ حسن کے بھائی زوہیب حسن نے الزام عائد کیا ہے کہ نازیہ حسن کو ان کے سابق شوہر اشتیاق بیگ نے جان بوجھ کر زندگی سے محروم کیا اور یہ بات نازیہ حسن نے خود سکاٹ لینڈ یارڈ کو بتائی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.