ایک ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے اوریا مقبول جان کی اس بات کا کیا حیران کن جواب دیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزیر اعظم عمران خان سے تقریباً تین سال بعد ملاقات ہوئی۔ یہ ٹھیک اتنا ہی عرصہ ہے جتنا انہیں اقتدار کی مسند پر سرفراز ہوئے ہو چکا ہے۔ ان سے آخری رابطہ بھی اگست کے دوسرے ہفتے میں ہوا

جب وہ وزیر اعظم کا حلف اُٹھانے کی تیاریوں میں تھے، تو انہوں نے مجھے فون کر کے اسلام آباد آنے کو کہا تاکہ بیوروکریسی کے حوالے سے جو میرا تجربہ ہے، اس سے بساط بھر مشورہ دے سکوں، لیکن رات گئے، عون چوہدری کا فون آ گیا کہ خان صاحب مصروف ہو گئے ہیں، اس لئے وہ اب خود بتائیں گے کہ ملاقات کب اور کیسے ہو گی۔ تین سال بعد کی اس ملاقات میں ایک بات نے مجھے حیران نہیں بلکہ پریشان بھی کر دیا۔ میں نے عمران خان صاحب سے کہا کہ پاکستانی سیاست سے آپ مذہبی عنصر (Religious factor) کو اگلے سو سال تک نہیں نکال سکتے۔ میرے سوال پر وہ فوراً تنک کر بولے، کیسے نہیں نکال سکتے۔ یہ دیکھیں مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی، دونوں کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ میرے لئے یہ جواب انتہائی غیر متوقع تھا۔ میں پاکستانی سیاست میں ’’مذہبی عنصر‘‘ کی بات کر رہا تھا اور وہ مذہبی سیاسی پارٹیوں کے حوالے سے جواب دے رہے تھے۔ میں بحث میں اُلجھنا نہیں چاہتا تھا، اس لئے بات دوسرے موضوع پر چلی گئی۔ یہ درست ہے کہ مذہبی سیاست سے لوگوں کو متنفر کرنے میں جتنا حصہ پاکستان کی مذہبی سیاسی پارٹیوں کا ہے، شاید ہی کسی اور گروہ،حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کا ہو۔ جمہوری اور پارلیمانی سیاست کی ساری غلاظتیں ان کے دامن سے لپٹی رہیں اور وہ انہی داغوں کو سینے پر مسلسل سجائے سیاست کرتے رہے۔ لوگ ان سے اسلام کے تحفظ اور نفاذ کیلئے یکسوئی اور جرأت چاہتے تھے، مگر یہ نظام، آئین، جمہوریت، تسلسل، آمریت اور اسٹیبلشمنٹ جیسے بے معنی تصورات کی لڑائی میں اُلجھے رہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طبقہ جو جمہوری اور اسلامی سیاستدان میں کبھی تمیز کیا کرتا تھا،وہ ان کی صفوں سے نکلا اور عام سیاسی پارٹیوں میں شامل ہو گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.