کیا عمران خان بلوچستان کے ناراض قبائل کو قومی دھارے میں لانے میں کامیاب ہو سکیں گے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظہور آغا بلوچستان کے پچیسویں گورنر ہیں ۔ان سے پہلے جو گورنر رہے ہیں ،ان میں ایک سابق چیف جسٹس تھے ۔آٹھ ریٹائرڈ جنرل تھے ۔باقی تمام بلوچستان کے بڑے نواب اور سردار تھے۔ ظہور آغا کے متعلق یہ

بات واضح الفاظ میں کہی جاسکتی ہے کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار عام آدمی کو گورنر بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے قاسم خان سوری جب جیتے تو دنیا نے کہا کہ پہلی بار بلوچستان سے کوئی عام آدمی ایم این اے منتخب ہوا ہے اور ان دونوں باتوں کاکریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔ظہور آغا کے والد گرامی سید نور محمد کی کوئٹہ کے پرانے کاسی روڈپرسبزی منڈی میں آٹا پیسنے کی چکی ہوتی تھی۔تھوڑےحالات بہتر ہوئے تو وہ چکی وہاں سے گوالمنڈی چوک پر لگا لی گئی ۔پھر جب یہ کاروبار ظہور آغا نے سنبھالا تو اس میں خاصی ترقی کی اور آٹے کی چکی کی جگہ آٹے کی مل بائی پاس کے قریب انڈسٹریل ایریا میں لگا لی اور ایک کاروباری شخصیت کی حیثیت سے کوئٹہ میں اپنی پہچان بنائی ۔ان کا بڑا بھائی سرکاری ملازم ہے ، چھوٹا بھائی وکیل ہے۔ پشین کے کاکازئی گائوں کے سید ہیں ۔ پشین میں سیدوں کے کئی گائوں ہیں۔ بلوچستان کے بلوچ اور پشتون دونوں ان کے خاندان کو بہت احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔یہ ایک ایسے گورنر ہیں جو دونوں کےلئے قابل ِ قبول ہیں ۔انہیں اپنے دور ِ طالب علمی میں بھی ایک ذہین طالب علم کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا انہوں نے یونیورسٹی آف بلو چستان سے ایم اے انگلش کیا۔کسی نے ان کے متعلق لکھا کہ ان کی کئی فلورملز ہیں اور ایک اسٹیل مل بھی ہے،یعنی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ بڑے سرمایہ دار ہیں ۔

اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ۔وہ ایک عام سے متوسط طبقے کے ایمان دارکاروباری آدمی ہیں ،بس اتنی سی بات ہے اپنی آمدنی سے زیادہ لوگوں پر خرچ کرتے ہیں تو لوگ انہیں سرمایہ دار سمجھنے لگتے ہیں۔بہت پڑھے لکھے آدمی ہیں ۔پشتو ، فارسی ، براہوی ،انگریزی اور اردو زبان روانی سے بولتے ہیں۔ان کے خاندان کے زیادہ ترلوگ اے این پی سے تعلق رکھتے تھے مگر انہوں نے جب اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا تو پی ٹی آئی سے کیا۔وہ اس وقت بھی سمجھتے تھے کہ عمران خان پاکستان کا نجات دہندہ ہے اور آج بھی یہی سمجھتے ہیں ۔جب سے وہ گورنر بنے ہیں ،پی ٹی آئی کے کارکنوں کی کوئٹہ میں عید ہو گئی ہے۔گورنر ہائوس دن رات کارکنوں سےبھرا رہتا ہے ،لوگوں کے مسائل حل کرنےکی کوششیں تیز تر ہیں ، بلوچستان کے مسائل پر گفت و شنید جاری ہے۔ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے سے متعلق مشاورتیں ہورہی ہیں ۔سی پیک کی تکمیل کےلئے کیا کیا کرنا ہے۔سی پیک کا روٹ جس کے بعد اسلام آباد سے بلوچستان کا سفر آدھا رہ جائے گا اس پر فوری توجہ دی جائے کہ وہ جلد مکمل ہو۔اس بات پر بھی گورنر بلوچستان دھیان دے رہے ہیں کہ فوری طور پر بلوچستان میں ہیلتھ کارڈ کا کیسے اجرا ہو سکتا ہے ؟ یقیناً اس وقت صرف بلوچستان ہی ایک ایسا صوبہ ہے جہاں ابھی تک ہیلتھ کارڈ شروع نہیں ہوا ۔نئے گورنر بلوچستان یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ بلوچستان کے بارڈر جو ایران اور افغانستان کے ساتھ ہیں وہاں ریلوے ٹریک بچھایا جائے ۔

موجودہ حکومت نے تین رکنی کمیٹی بنائی جس میں زبیدہ جلال، اسدعمر اور قاسم خان سوری شامل تھے اور اُس نے شمالی بلوچستان جو خالص بلوچ ایریا ہیں ان کے لئے اربوں روپے کے پیکیج کا اعلان کیا مگر بلوچستان کے پشتون ایریاز کےلئے کسی ڈویلپمنٹ پیکیج کا اعلان نہیں کیا ۔گورنر بلوچستان کےلئے اہم مسئلہ یہی ہے کہ اس وقت پشتون ایریاکے لوگوں کےلئے حکومت سے کسی پیکیج کا اعلان کرایا جائے تاکہ اُن میں احساس ِ محرومی پیدا نہ ہو ۔بلوچستان کی پسماندگی کا کیا حل ہے؟ انفراسٹرکچر سے لے کر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بلوچستان کو باقی صوبوں کےبرابر کس طرح لایا جا سکتا ہے ۔ بنیادی سہولتیں زندگی ہر شخص کو کیسے فراہم کی جاسکتی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق بلوچستان میں صحت کی سہولتیں صرف بتیس فیصد آبادی کو حاصل ہیں ۔ بلوچستان کی شہری آبادی میں ہرسات ہزار تین سو لوگوں کے لئے ایک ڈاکٹر ہے۔ دیہی علاقوں کی حالت اور بھی بد تر ہے ۔ پورے بلوچستان کے بتیس اضلاع میں پانچ سو 49 بیسک ہیلتھ یونٹ ہیں جن میں صرف ایک سو گیارہ پوری طرح فعال ہیں۔فوری طور پر یہ تمام کیسے فعال ہو سکتے ہیں ؟ ایسےبے شمار مسائل ہیں جن کے حل کیلئے بلوچستان کے نئے گورنر لائحہ عمل تیار کررہے ہیں ۔میری دعا ہے کہ ﷲ تعالیٰ انہیں اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.