پاکستان کے پاکستان اب کیا آپشنز ہیں ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی سحر بلوچ کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا ہے کہ ’پاکستان کو امریکہ (اور دیگر ممالک) سے اس بات کی وضاحت چاہیے کہ کہیں اس کو خطے میں تنہا تو نہیں چھوڑ دیا جائے گا؟‘

جمعے کے روز وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں صحافیوں کو دی گئی بریفنگ کے دوران معید یوسف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان امریکہ سے امید کرتا ہے کہ وہ خطے میں رہنے والے افغان عوام کو یہ یقین دلائے کہ افغانستان سے انخلا کا فیصلہ امریکہ کا تھا۔انھوں نے کہا ’پاکستان چاہتا تھا کہ سیاسی مفاہمت کے بعد فوج کو وہاں سے نکالا جاتا نہ کہ ایک صبح اٹھ کر بغیر کسی کو اعتماد میں لیے فوج کو نکال لیا جائے۔ لیکن ہم پھر بھی اس فیصلے کی عزت کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک خود مختار فیصلہ تھا اور جو ہے، سو ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’پاکستان امید کرتا ہے کہ امریکہ اور دیگر بیرونی طاقتیں جو افغانستان میں رہی ہیں، وہ افغانستان اور خطے کو یہ واضح کر دیں کہ افغانستان سے نکلنا ایک عسکری فیصلہ تھا اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ اور دیگر قوتیں خطے کو مکمل طور پر تنہا چھوڑ رہی ہیں۔‘واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد سے افغان اور پاکستان کی حکومت کے درمیان زبانی چپقلش جاری ہے۔ اس دوران افغان حکومت نے پاکستان پر تالبان کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ جبکہ پاکستان نے اس الزام کی بارہا تردید کی ہے۔ایک جانب دونوں ممالک کی حکومتوں کی لفظی تکرار ہے تو دوسری جانب افغانستان میں تالبان کی تیزی سے پیش قدمی جاری ہے اور طالبان نے افعانستان کے 34 میں سے 12 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔اس تمام صورتحال میں جہاں افغانستان سے بے گھر افراد کی ایک بڑی

تعداد سرحدوں کی جانب بڑھ رہی ہے، وہیں پاکستان اس بات کو بارہا دہرا رہا ہے کہ وہ اب مزید افغان پناہ گزینوں کو پناہ نہیں دے گا اور قومی مفاد میں رہتے ہوئے فیصلے کرے گا۔اسی طرح ماہرین اور خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات بھی اس وقت مشکلات سے دو چار ہیں۔اس بات کا عندیہ وزیرِ اعظم عمران خان کے غیر ملکی صحافیوں کو دیے گئے حالیہ بیان میں بھی واضح تھا، جہاں انھوں نے کہا کہ ’امریکہ پاکستان کو صرف افغانستان میں گند صاف کرنے کے لیے مؤثر سمجھتا ہے۔ اور امریکہ کا رویہ اب پاکستان سے اس لیے بھی مختلف ہے کیونکہ امریکہ اب انڈیا کو اپنا سٹریٹیجک پارٹنر سمجھتا ہے۔‘افغانستان میں امن لانے کے لیے اور خطے میں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا پاکستان انڈیا سے تعلقات بہتر کرنے کے بارے میں سوچے گا؟ اس سوال کے جواب میں قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس بات کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ کیونکہ انڈیا اس وقت اس پوری صورتحال میں اہم نہیں ہے۔‘پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جمعے کو جاری وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ’پاکستان اور امریکہ دونوں خطے اور خاص طور سے افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔ساتھ ہی دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کر دیا کہ ‘پاکستان کو کسی دوسرے ملک کے نظریے سے دیکھنا مناسب نہیں ہو گا اور نہ ہی امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو تنگ نظری سے دیکھنا صحیح ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ

وہ افغان امن عمل میں اپنا کردار ادا کرے اور اُن پالیسیوں پر عمل کرے جو پاکستان کے قومی مفاد میں ہیں۔‘ایک فون کال بھی اس جاری سرد مہری کا حصہ ہے جس کے بارے میں پاکستان کی حکومت کی جانب سے متعدد بیانات جاری کیے جا چکے ہیں۔واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکی اخبار فنانشل ٹائمز نے وزیر اعظم کے مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا ایک بیان شایع کیا تھا جس میں انھوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ‘بائیڈن اتنے اہم ملک کے وزیرِ اعظم کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اگر وہ (بائیڈن) اسی طرح ملک کی قیادت کو نظر انداز کرتے رہے تو پاکستان کے پاس اور آپشن بھی ہیں۔‘تاہم جمعے کو ہونے والی بریفنگ کے دوران معید یوسف نے امریکی اخبار فنانشل ٹائمز کی اس رپورٹ کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان نے کسی فون کال کے لیے نہ اس سے پہلے اصرار کیا تھا اور نہ اب کر رہا ہے۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وزیرِ اعظم نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ بائیڈن کی فون کال کا انتظار نہیں کر رہے ہیں۔ اگر بائیڈن کال کرنا چاہتے ہیں تو کریں اگر نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں۔ ان کا فیصلہ ہے، وہ بہتر بتا سکتے ہیں۔‘پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اور افغانستان کی بدلتی صورتحال پر بات کرتے ہوئے تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ ’افغان امن عمل میں پاکستان نے امریکہ اور تالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جس سے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان یہ تاثر پایا گیا کہ

پاکستان کے افغان امن مذاکرات میں مکمل تعاون کرنے سے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کا ایک نیا باب شروع ہو گا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’ایک امید یہ بھی تھی کہ ان دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں کی بداعتمادی بھی ختم ہو جائے گی۔ لیکن جب یہ بداعتمادی شروع ہوئی تھی تب سابق صدر اوبامہ کی انتظامیہ میں جو بائیڈن ایک اہم پلیئر تھے۔ تو وہ توقعات پوری نہیں ہو پائیں جو پاکستان امریکی قیادت سے کر رہا تھا۔‘اسی طرح چین کا قریبی اتحادی ہونے کو پاکستان اپنے مفاد میں دیکھ رہا تھا اور امریکہ سے ازسرِنو اپنے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہا۔ اور حال ہی میں دونوں چین اور امریکہ کے درمیان جاری ‘کولڈ وار ‘ میں بھی پاکستان نے خود کو اس تمام تر بحث سے غیر جانبدار رکھا۔11 اگست کو دوحہ میں ہونے والے ٹروئکا اجلاس میں پاکستان کے علاوہ روس، چین اور امریکہ بھی شامل تھے۔ اس اجلاس میں افغانستان کی بگڑتی صورتحال اور اس کے نتیجے میں امن عمل میں تیزی لانے سے متعلق بات چیت کی گئی۔اس دوران ایک بار پھر ان ممالک نے آمادگی کا اظہار کیا کہ افغانستان کے معاملے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے، افغانستان کی جانب سے امن عمل پلان ترجیحی بنیادوں پر پیش کیا جائے، اور افغانستان میں موجود ہر گروہ انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے اس پر عمل کرے۔اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کے پاس کیا راستے ہیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے اپوزیشن رکن اور سینیٹر شیری رحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اب بھی کہا جارہا ہے کہ جب بدامنی ہو گی تو یہ کریں گے۔ اس وقت افغانستان میں بدامنی جاری ہے۔

‘’پاکستان تو 2012 سے کہتا آ رہا ہے کہ افغانستان میں مختلف گروہوں کی شراکت سے حکومت بنائی جائے۔ اگر افغان حکومت ایسا کرنے میں ناکام ہو گئی تو یہ افغان حکومت کی ناکامی ہے یا پاکستان کی؟ اس کا الزام پاکستان پر ڈالنا سراسر غلط ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’پاکستان بے شک افغانستان کی مدد کرے لیکن ان کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرے۔ اور یہ بارہا حکومت کی جانب سے کہا جاتا رہا ہے۔ پاکستان افغانستان کو سٹریٹیجک بیک یارڈ نہیں سمجھتا۔ یہ تو ایک پرانی غلطی تھی جو ہم دوبارہ نہیں دہرانا چاہتے۔‘انھوں نے کہا کہ ’موجودہ حکومت سب سے پہلے حفاظتی کونسل کا اجلاس طلب کرے اور پارلیمانی ارکان کا اعمتاد حاصل کرے۔ کیونکہ یک آواز ہو کر جب بات کی جائے گی تو اثر بھی کرے گی۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ میں اپنی موجودگی بااثر بنائے۔ ’مطلب اگر آپ کونسل کے اجلاس میں شامل نہیں ہو سکے، آواز نہیں اٹھا سکے تو آپ یہ کر سکتے تھے کہ اپنے خیالات اور سوالات اس اجلاس میں شامل کسی اور ملک کے ذریعے شامل کروا سکتے تھے۔‘شیری رحمان نے کہا کہ ’اس وقت آپ جتنی بھی باڑ لگا لیں۔ آپ پر انتہا پسندی کا دباؤ پڑے گا۔ کیونکہ سرحدوں سے آمد و رفت مسلسل جاری ہے۔‘تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ افغانستان کی بدلتی صورتحال میں اس وقت پاکستان کے پاس دو سے تین راستے ہیں۔ ’پہلا یہ کہ پاکستان سفارتی سطح پر کوششوں کو تیز کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرے۔ جس کے نتیجے میں دیگر ممالک اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں جو بے اعتمادی پیدا ہو چکی ہے اس کو ختم کرنے میں مدد مل سکے گی۔‘انھوں نے کہا کہ ’تالبان کے افغانستان میں مختلف صوبوں پر قبضہ کرنے سے پاکستان بھی متاثر ہو گا جس کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھنا ضروری ہے اور تالبان پر دباؤ ڈالنا بھی ضروری ہے۔‘عامر رانا کا مزید کہنا تھا کہ چین سمیت پوری دنیا اس وقت پاکستان کو دیکھ رہی ہے کہ پاکستان آنے والے پناہ گزینوں کے بارے میں کیا کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.