پاکستانیوں کو خوشی منانی چاہیے یا افسوس کرنا چاہیے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریکی صدر ٹرمپ سے جب عمران خان صاحب کی ملاقات ہوئی تو وہ اُس ملاقات پر اِس قدر پُرجوش ہو گئے کہ امریکہ میں جلسے سے خطاب کے دوران پاکستان کے اپوزیشن لیڈروں کی ایسی تیسی کرنے کا اعلان کر ڈالا۔

واپس آئے تو وزیروں اور مشیروں سے ایسا استقبال کروایا کہ جیسے وہ کشمیر فتح کرکے لوٹ رہے ہیں۔ خود بھی یہی فرمایا کہ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے میں آج ورلڈ کپ جیت کر لوٹا ہوں لیکن کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ ٹرمپ کی اصل میچ فکسنگ نریندر مودی سے ہوئی تھی جس کے نتیجے میں اس نے کشمیر ہڑپ کر لیا۔ یوں جس بات کا دو سال قبل ہم جشن منا رہے تھے، آج مظلوم کشمیریوں کے ساتھ مل کر ماتم کررہے ہیں۔ دوسری طرف پہلی مرتبہ پاکستان کی بجائے اشرف غنی اور امریکہ نفرت کا نشانہ بننے لگے اور تیسری طرف امریکہ نے پاکستان کی بجائے اشرف غنی کو افغانستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس لئے پاکستان میں ایک بار پھر وزیراعظم، وزرا صاحبان، مذہبی جماعتیں، ٹی وی اینکرز اور دانشور جشن منانے لگے۔ اب ہم جیسے طالب علم التجائیں کر رہے ہیں کہ جشن منانے کی ضرورت ہے اور نہ ماتم کرنے کا کوئی جواز لیکن پختون قوم پرست سوگ میں ہیں جبکہ باقی لوگ جشن منانے سے باز نہیں آرہے حالانکہ ابھی صورت حال واضح نہیں۔ بہتری کے بھی امکانات ہیں اور تباہی کا بھی خطرہ ہے۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہم ماتم کررہے ہوں گے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ سردست تو تالبان نے مخالف سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر مشترکہ نظام بنانے کی بات کی ہے لیکن جب انہوں نے اپنی امارات اسلامی بحال کی تو اب اس میں شمالی افغانستان کے رہنماؤں کی شمولیت کا امکان بہت کم نظر آتا ہے جب وہ دیگر افغان دھڑوں کو جمہوری طریقے سے ساتھ لے کر چلنے پر آمادہ نہیں ہوں گے تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ مغربی ممالک ان کی حکومت کو تسلیم کر لیں۔ اب اگر مغربی ممالک کے بغیر پاکستان ان کی حکومت کو تسلیم کرے گا تو ایک بار پھر پاکستان مغربی ممالک کے غصے کا نشانہ بنے گا۔ اب ایسے عالم میں جبکہ عمران خان کی حکومت نے اپنی معیشت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے منسلک کر دی ہے اور دوسری طرف ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹک رہی ہے تو جب امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان پر غصہ اتاریں گے تو اندازہ لگا لیجئے کہ پاکستان کی کیا حالت ہوگی۔ اللّٰہ کرے میرا اندازہ غلط ثابت ہو لیکن مجھے تو لگتا ہے کہ کسی بھی وقت تالبان کی کامیابی پاکستان کے لئے وبالِ جان بھی بن سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.