نامور پاکستانی صحافی نے اکبر لیاقت سے ملاقات کا احوال بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمود شام اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔انہی کالموں میں ہم نے قائد ملت کے صاحبزادے اکبر لیاقت علی خان کی صحت کے بارے میں چند سطور لکھی تھیں میں تو اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجا لایا ہوں کہ اس نے اس تحریر کی توفیق دی ۔

اس کے بعد ہی حکومت سندھ نے مرتضیٰ وہاب کے ذریعے اکبر لیاقت علی کے علاج کے سارے اخراجات برداشت کرنے کا ذمہ لیا اور ماہانہ بنیادوں پر کچھ مالی خدمت کا بھی اعلان کیا۔ پہلے تین ماہ کی ادائیگی کا چیک بھی مرتضیٰ وہاب ہی لے کر گئے۔ اس ہفتے میں بھی پاکستان کے پہلے شہید وزیر اعظم کے صاحبزادے کی رہائش گاہ پر حاضر ہوا۔ میں ایک گھر میں نہیں تاریخ کے اوراق میں موجود تھا۔ قائد ملت کی لائبریری کا کچھ حصّہ یہاں موجود ہے۔ ایک تصویر امریکی دورے کی۔ صدر ٹرومین خود پاکستان کے وزیر اعظم کے لئے ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔ اکبر لیاقت علی 16اکتوبر 1951کے خونیں دن کو یاد کررہے ہیں۔ ان کے ابو کہہ رہے ہیں کہ تم اسکول جائو، میں شام تک لوٹ آئوں گا۔ وہ اسکول گئے ۔سہ پہر میں فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ والدہ رونے لگتی ہیں۔ نوکر رو رہے ہیں۔ گورنس کے آنسو گر رہے ہیں۔ کچھ معلوم نہیں کیا ہوا۔ میں بھی رورہا ہوں۔ انہیں یاد آرہا ہے کہ وہ 14اگست کی پریڈ دیکھنے گئے تھے۔ وہ بہت دل گرفتہ ہیں کہ قائد اعظم نے اور ان کے ابا نے جو پاکستان حاصل کیا تھا۔ وہ آدھا رہ گیا ہے ۔ جو بچا ہے۔ وہ بھی مسائل سے دوچار رہتا ہے۔ امید ہے کہ عمران خان کچھ کرسکیں گے۔ ان کے والد کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ اس پر وہ کسی وقت بات کریں گے۔ امریکہ فوجی اڈے مانگ رہا تھا۔ شہنشاہ ایران کے تیل کے کنوئوں کا بھی کچھ معاملہ تھا۔ والد اور والدہ نے انہیں لندن میں اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ہفتے میں تین بار ان کا ڈائیلاسز ہورہا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں’جنگ‘ میں مضمون چھپنے کے بعد پورے پاکستان سے فون اور خط آرہے ہیں۔ میں جذبات سے مغلوب ہوں۔ میری بیگم در لیاقت اور بیٹی سامیہ لیاقت سب پاکستانی قوم کے شکر گزار ہیں کہ وہ لیاقت علی خان اور ان کی خدمات کو نہیں بھولی جب کہ حکمران فراموش کرچکے ہیں۔حکومت سندھ نے ذمہ داری لے لی ہے۔ اللہ انہیں خوش رکھے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر گورنر سندھ بھی آئے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے بھی پیشکش ہوئی۔ مگر ہم نے شکریے کے ساتھ معذرت کی کہ حکومت سندھ سب کچھ کررہی ہے۔ صدر مملکت بھی آئے تھے۔ ان کا بھی شکریہ۔ چھوٹا سا پرانا بنگلہ۔ یہ در لیاقت صاحبہ کی والدہ کا گھر ہے۔ چھوٹے چھوٹے صوبائی وزیروں مشیروں کے عالی شان بنگلے ہیں۔ وزرائے اعظم کے تو محلّات ہیں۔ لیکن یہ اس وزیر اعظم کا خاندان ہے جس کے اہل خانہ کے پاس تدفین کے لئے بھی پیسے نہیں تھے۔ جس کی بیگم نے اپنی شاندار کوٹھی پاکستانی ہائی کمیشن دہلی کے لئے عطیہ کردی تھی۔ اب ایسے خوددار۔ قناعت گزار کہاں ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.