ٹک ٹاک کے نام پر کیا کچھ ہو رہا ہے اور یہ سب کون کروا رہا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور (ن) لیگی رہنما اور مشہور کالم نگار حنا پرویز بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔جب سے قومی یادگار کے سائے میں قومی سانحہ برپا ہوا ہے، کیا سوشل میڈیا اور کیا مین اسٹریم میڈیا، ہر کوئی دور کی کوڑیاں لانے کیلئے پورا زور لگا رہا ہے۔ کئی اِسے سوشل میڈیا

اسٹنٹ اور فالوورز کی بھوک قرار دے کر دلائل کے انبار لگانے میں مصروف ہیں، بہت سے اِس واقعہ کو اسکرپٹ قرار دیتے ہوئے یہ بھی پیش گوئی کررہے ہیں کہ دیکھنا چند ہی دنوں میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ فکس میچ تھا اور جلد سامنے آجائے گا کہ یہ ڈیل کس کس نے کتنے میں کی؟ کوئی یہ ججمنٹ پاس کر رہا ہے کہ لڑکی تھی ہی ایسی، اُس نے محترم مہینے میں ٹک ٹاک بنانے کی غیراخلاقی حرکت کی ہی کیوں؟ آئیں اِس واقعہ بارے چند نکات پر غور کرتے ہیں۔ پہلا نکتہ، فرض کریں درست ہے کہ اُس لڑکی نے اپنے ساتھی کیساتھ مل کر دوسرے ٹک ٹاکروں کو مینارِ پاکستان پہنچنے کی دعوت دی تھی۔ دوسرا نکتہ، وہ یومِ آزادی کے موقع پر اپنے فالوورز کے ہمراہ وڈیو بنا کر اپنے فالوورز بڑھانا چاہتی تھی۔ تیسرا نکتہ، اُس نے یہ سب کچھ حفاظتی اقدامات کے برعکس کیا۔ اِن تینوں نکات کا یہ جواب ہو سکتا ہے کہ یہ غلطی، بےوقوفی اور حماقت ضرور ہو سکتی ہے لیکن جرم ہرگز نہیں تھا جس کی اِس قدر شرمناک سزا لڑکی کو ملی۔ چوتھا نکتہ، فرض کریں کہ یہ درست ہے کہ وہ قابلِ اعتراض ٹک ٹاک بناتی رہی ہے، پانچواں نکتہ، بہت سے حلقے الزام لگاتے ہیں کہ چونکہ اُس نے محرم کے مہینے کے تقدس کو پامال کیا، اس لئے اس کے ساتھ ایسا ہونا ہی تھا، چوتھے اور پانچوں نکات کا جواب یہ ہے کہ فرض کریں

وہ ایسی ہی تھی اگر وہ اس سےبھی بڑھ کر ہوتی تو کوئی قانون ان نوجوانوں کو یہ لائسنس نہیں دیتا کہ وہ حوا کی بیٹی کی عزت کو پامال کریں۔ اِن ظالموں کو کس نے یہ حق دیا تھا کہ وہ اس کو بےلباس کرتے، مجھے یقین ہے کہ ایسا کرنے والے دنیاوی قانون سے بچ بھی گئے تو اللہ کی لاٹھی سے بچ نہیں پائیں گے۔ کون جانتا تھا کہ خوشیوں بھرا یومِ آزادی حوا کی اِس بدقسمت بیٹی کیلئے یومِ گریہ بن جائے گا، اُس لڑکی کو اگر بھول گیا تھا تو ان چار سو بھیڑیوں میں متعدد تو بخوبی جانتے تھے کہ یہ کون سا محترم مہینہ ہے، اس پاک مہینےکے کیا تقاضے ہیں؟ مجھے شک نہیں بلکہ یقین ہے کہ ہمارے معاشرے کی توڑ پھوڑ کیلئے گرینڈ گیم آف فیملی ڈسٹرکشن کا سیاہ کھیل زور شور سے جاری ہے، ہمارے نوجوانوں کو بےراہ روی کی اندھیری کھائی کی جانب دھکیلا جارہا ہے، یہاں سوال یہ ہے کہ مقامی طور پر کون سے خفیہ ہاتھ اس شرمناک کھیل میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں؟ ریاست اس حوالے سے کس قدر ذمہ داری نبھا رہی ہے؟ پیمرا کا اس سارے عمل میں کیا کردار ہے؟ کیا مین اسٹریم میڈیا ٹک ٹاک اسٹارز کو پروموٹ کرکے بےراہ روی کو بڑھا نہیں رہا ؟ کیا مین اسٹریم میڈیا کو ایسا ہی کرنا چاہئے؟ میرا ماننا ہے کہ ٹک ٹاک بنانے والے پاکستانی لڑکے اور لڑکیاں یلو سے ریڈ لائن تک پہنچ چکے ہیں جن کو روکنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

اِس ضمن میں ریاست اور سماج سمیت تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا، کیا ہی اچھا ہو کہ اس عظیم مقصد کیلئے سوشل میڈیا کنٹرول اتھارٹی بنا دی جائے جس میں اساتذہ سمیت ہر متعلقہ شعبہ کے نمائندہ افراد کو شامل کیا جائے جو قواعد و ضوابط کی تشکیل، پالیسی سازی اور عملداری کیلئے سارا کام ہنگامی بنیادوں پر کریں کیونکہ سوشل میڈیا بڑی تیزی سے ہماری زندگیوں میں سرایت کر چکا ہے۔ یہ ہماری نوجوان نسل کو شاہراہِ بےراہ روی ہر گامزن کر چکا ہے، آخری بات یہ ہے کہ 14اگست کو اسی جگہ صرف ایک نہیں بلکہ دوسرا واقعہ بھی ہوا تھا جس میں ایک خاتون کو اس کے بچے سمیت بچایا گیا تھا، تین روز تک اس شرمناک واقعے کو چھپایا گیا، پولیس نے تو روایتی بےحسی دکھانی ہی تھی وہ اس نے دکھائی جبکہ کٹھ پتلی پنجاب سرکار نے بھی خوابِ خرگوش سے اٹھ کر وہی بیان دیا جو اس نے سانحہ ساہیوال کے وقت دیا تھا کہ انصاف ہوتا نظر آئے گا، عوام کو سب یاد ہے کہ سانحہ ساہیوال کے تمام مجرمان چھوٹ گئے تھے، کٹھ پتلی سرکار اور اس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ محرم کی چھٹیوں کے بعد نادرا کے دفاتر کھلیں گے تو کارروائی شروع ہوگی، افسوس صد افسوس، انہیں تو دنیا داری نبھانے کی بھی عقل نہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ اس واقعہ میں صرف قوم کی بیٹی نہیں بلکہ کٹھ پتلی سرکار کی کارکردگی بھی دوبارہ عیاں ہو گئی، عقلمندوں کیلئے اس میں بڑی نشانیاں موجود ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.