شریف برادران کے دور میں 20 ہزار کمانے والا بھی سکون میں تھا اور عمران خان کے دور میں 50 ہزار کمانے والا بھی بے سکون۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں عوامی نقطہ نظر سے حکومت کے یہ تین سال تین صدیوں کے برابر ہیں، اس حوالے سے شہباز شریف نے عوام کی درست ترجمانی کی ہے۔ عوام حیرت زدہ ہیں تین سال پہلے چینی 50 روپے

کلو کیسے ملتی تھی اور اب ایک سو روپے کلو بھی نہیں ملتی۔ آخر کون سی آندھی چلی جس نے ڈبل قیمت پر بھی اسے نایاب بنا دیا ہے۔ آٹا دگنی قیمت پر بھی دستیاب نہیں ہوتا گھی ڈیڑھ سو روپے سے ساڑھے تین سو روپے کلو کیسے ہو گیا۔ شہباز شریف یہ بات بھی درست کہتے ہیں آج عوام پرانے پاکستان کو یاد کر کے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں نئے پاکستان نے تو ان کی زندگی میں تقریباً زہر گھول دیا ہے۔ اب نئے اور پرانے پاکستان کا فرق صرف رہ بھی یہی گیا ہے کہ پرانے پاکستان میں پندرہ بیس ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے بھی گزارا کر لیتے تھے اب پچاس ہزار ماہانہ کمانے والے بھی مہنگائی کی دہائی دے رہے ہیں۔ ذرا سوچئے جن کی ماہانہ آمدنی اب بھی بیس پچیس ہزار روپے ہے، ان کا گزارا کیسے ہوتا ہوگا۔ مجھے یہ خبر پڑھ کر بہت عجیب لگا کہ چڑیا گھر لاہور میں داخلہ ٹکٹ 40 روپے سے بڑھا کر 60 روپے کر دی گئی ہے اور موٹر وے پر سفر کرنے والوں کو اب دس فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ یعنی ہر جگہ عوام کی جیبیں خالی کرانے کا کلچر پروان چڑھ چکا ہے، حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اب چڑیا گھر جیسے تفریحی مقام پر جہاں زیادہ تر لوگ اپنے بچوں کے ساتھ آتے ہیں یک دم ٹکٹ بیس روپے بڑھا دینا غریبوں سے یہ چھوٹی سی تفریح بھی چھین لینے کے مترادف ہے۔ کیا پنجاب حکومت چڑیا گھر کے اخراجات کا بوجھ خود نہیں اٹھا سکتی؟ کیا کئی قسم کے ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کا اتنا بھی حق نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو چڑیا گھر جیسی جگہ کی سیر ہی کرا سکیں۔ ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر حکومت کے دھاوے سے یہی لگتا ہے وہ عوام کو کچھ دینے کی بجائے سب کچھ چھین لینا چاہتی ہے۔ اگلے دو سال بھی حکومت کی حکمتِ عملی اگر یہی رہی تو لوگ آئندہ انتخابات میں نئے پاکستان کی بجائے پرانے پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کو ترجیح دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.