تفتیش کے دوران تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) مینار پاکستان میں خاتون سے بدتمیزی اور زدوکوب کرنے کے واقعہ پر حساس ادارے کی جانب سے موقع پر موجود 1800سو سے زائد افراد کی جیو فیسنگ مکمل کر کے ان لوگوں کی نام اور پتہ پر مبنی فہرست گرفتاری کے لئے لاہور کے تمام انچارج انویسٹی گیشن اور سی آئی اے افسروں

کے حوالے کردی ہے۔ پولیس نے فہرست میں موجود ساڑھے چھ سو افراد کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔ جیو فیسنگ میں متاثرہ خاتون عائشہ کے فالورز کی بڑی تعداد شامل ہے۔ جنہیں عائشہ نے خود اپنے مینار پاکستان آنے کی اطلاع دے کر انہیں بھی مدعو کیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتک کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس وقت خاتون کے اطراف میں انکی ٹیم کے ممبران کے علاوہ زیادہ تر وہ افراد موجود تھے جو کہ خاتون کے فالورز تھے اور وہ خاتون ٹک ٹاکر کو اچھی طرح جانتے تھے اور خاتون کی پہلے سے سوشل میڈیا پر وائرل بولڈ ویڈیوز دیکھتے رہتے تھے اور بدتمیزی بھی انہیں لوگوں کی جانب سے شروع کی گئی تھی۔ جس کے بعد وہاں پر موجود افراد نے بھی نازیبا حرکات کیں۔ پولیس کی جانب سے گرفتار ابتک خاتون کے دو سو سے زائد گرفتار فالورز جنہیں جیو فیسنگ کے بعد مختلف مقامات سے حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے دوران تفتیش اقرار کیا ہے کہ وہ خاتون کی جانب سے دو روز قبل اپنی ایک ویڈیو میں مینار پاکستان موجود ہونے اور فالورز کو وہاں ملنے کے لئے بلانے پر ہی وہاں گئے تھے۔ تاہم کسی بھی شخص نے تاحال خاتون سے بدتمیزی کرنے کا اعتراف نہیں کیا ہے اور پولیس ابھی تک کسی ایسے شخص کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی جس نے خاتون سے بدتمیزی کا اعتراف کیا ہو۔ فہرست میں شامل بڑی تعداد میں بیگناہ افراد کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی شامل ہے اور بے گناہ ہونے کے باوجود پولیس کی جانب سے اپنی روایتی تفتیش کے بعد انہیں چھوڑا۔ ان افراد میں درجنوں افراد ایسے ہیں جو کہ پارک یا اردگرد ریڑھیاں اور کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.