’’خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے، ان جھنڈوں کو کوئی چیز پھیر نہیں سکے گی”

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اہم دانشور ینگ شنگ اور کوئی فندی کے مضامین بھی مسلسل اس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ کی شکست ایک معمولی سی شکست نہیں، جیسی شکست ویتنام میں ہوئی تھی، بلکہ یہ اس بڑھتی ہوئی تہذیبی بالادستی کا مکمل زوال ہے۔

یہ امریکہ کے اس واحد عالمی قوت کے تصور کی شکست ہے اور اس کے غرور کو خاک میں ملانا ہے۔ چین جسے اس وقت براہِ راست امریکی لڑائی کا سامنا ہے، جس کے خلاف امریکہ نے گزشتہ ڈیڑھ سال سے “Indo Pacific” یعنی ہند چینی کے نام سے اپنی اگلی حکمتِ عملی کا اعلان کر رکھا ہے اور چند ماہ پہلے اس نے بھارت، جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ کو ملا کر ایک چار ملکی اتحاد QUAD بھی بنایا ہے۔ وہی چین اور اس کے دانشور امریکہ اور یورپ کی لڑائیوں اور فتوحات کو محض ایک لڑائی نہیں سمجھتے، بلکہ اس کے اعلیٰ دماغ لوگ آج بھی یہ ادراک رکھتے ہیں کہ امریکہ اور مغرب کا دھاوا ہمیشہ ایسی جعلی اخلاقیات کے لبادے میں کیا جاتا ہے جو اس نے خود ساختہ طور پر تراش رکھی ہیں اور وہ انہیں دُنیا پر نافذ کرنے کے بہانے ملکوں پر دھاوے بولتا کرتا ہے۔ ان کھوکھلی اقدار کا نام جدید مغربی تہذیب ہے جس کی نام نہاد علامتوں میں انسانی حقوق، حقوقِ نسواں، اقلیتوں کے حقوق اور اس طرح کے دیگر بے بنیاد آئیڈیل بنائے گئے ہیں اور ان ملکوں کو مغرب اپنی کسوٹی پر رکھ کر پرکھتا ہے اور پھر بدنام کرتا ہے۔ بدنامی کے بعد ان پر دھاوا بول دیتا ہے۔ شہر اُجاڑ دیتے ہیں، گھر تباہ کر دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی آپ کے ہاتھ صاف ہیں۔ آپ نے اگر عراق میں پندرہ لاکھ لوگوں کو زندگی سے محروم کیا ہے تو بہانہ یہ ہے کہ ہم نے صدام جیسے شخص کو ہٹانے کیلئے ایسا کیا تھا۔

افغانستان کی یہ شکست جو سیکولر، لبرل ،مغربی سودی تہذیب کی شکست تھی اور ٹیکنالوجی کے دیوتا کی ذِلت تھی، اس کے بارے میں آج مغربی دُنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کا مرعوب دانشور یہ نعرہ بلند کر رہا ہے کہ امریکہ کا تو افغانستان میں ہدف صرف ایک شخص تھا، وہ اس نے حاصل کر لیا، اس لئے وہ یہاں سے فتح مند ہو کر جا رہا ہے امریکہ نے اس افغانستان میں ایک ہزار ارب ڈالر خرچ کئے۔ ایک اتحادی فوج تیار کی، میرے ملک کے سیکولر، لبرل دانشور کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ وہ ابھی تک ٹیکنالوجی کے بُت کے سامنے سجدہ ریز ہے اور تہذیبِ مغرب کے نشے میں مست ہے۔چین کے مفکرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی شکست نے تہذیبِ مغرب کے پھیلائو کا راستہ ہی روک دیا ہے۔ آقا سید الانبیائؐ نے بھی اسی بات کا اعلان کیا تھا کہ ’’خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے۔ ان جھنڈوں کو کوئی چیز پھیر نہیں سکے گی، یہاں تک کہ ایلیا (فلسطین) میں یہ نصب کئے جائیں گے‘‘ (ترمذی)۔ جن جھنڈوں کو اب پوری مغربی تہذیبی قوت نہیں روک سکے گی،ان جھنڈوں کے مقابلے میں پاکستان کے کاسہ لیس مغرب زدہ سیکولر، لبرل دانشوروں کی کیا اوقات ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.